History of Afghanistan Part 5 Urdu

History of Afghanistan Part 5 Urdu

یہ صورتحال اسکندرِ اعظم کیلئے بھی پریشانی کا باعث تھی کیونکہ وہ جلد از جلد ہندوستان پر حملے کیلئے جانا چاہتے تھے۔ہندوستان دوستو دور بھی نہیں تھا،کیونکہ دریائے سندھ کے کنارے تک تو وہ پہنچ چکے تھےلیکن افغانستان کی دلدل ان کا پاؤں چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔اسکندرِ اعظم نے ہندوستان کی مہم کیلئے یونان سے بائیس ہزار مزید تازہ دم فوج افغانستان بلوائیلیکن اس فوج کو وہ ہندوستان نہیں بھیج سکےبلکہ افغان باغیوں سے لڑائی ہی میں یہ فوج بھی جھونک دینا پڑی۔

کہتے ہیں کہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں اسکندرِ اعظم کی فوج کا جتنا جانی نقصان ہوااتنا نقصان اسے پرشین ایمپرر، داریوس دا گریٹ کے مقابلے میں بھی نہیں ہوا تھا۔ان کی فوج اتنی خوفزدہ تھی کہ وہ کنویں کے پانی پینےسے ڈرنے لگی تھیکہ کہیں اس میں افغانیوں نے زہر نہ ملا دیا ہو۔مجبوراً سکندر اعظم کو اپنی فوج کی پوزیشنز کے قریب ہی نئے کنویں کھدوانے پڑے۔مگر افغانیوں کے سرپرائز ابھی ختم نہیں ہوئے۔

ایک موسم سرما دوستو ایسا آیا جس نے سکندر اعظم کو آخر قائل کر لیا کہ وہ افغانوں سے لڑ کر نہیں جیت سکتے۔انہیں کچھ اور کرنا ہو گا.یہ واقعہ کیا تھا؟افغانستان میں تین برس کے قیام کے دوران بلخ کا علاقہ اسکندرِ اعظم کا ہیڈکوارٹر تھا۔سکندراعظم گرمیوں کے موسم میں جنگوں اور مہمات کے لیے یہاں سے نکل جاتےاور سردیاں گزارنے کے لیے بلخ میں اپنے ہیڈکوارٹر میں واپس آ جاتے تھے۔کیونکہ افغانستان میں موسم سرما کسی صورت جنگ کے لیے موزوں موسم نہیں ہوتا۔

لیکن ایک سال دوستو باغیوں نے پلان بنایا کہ جب سکندر اعظم گرمیوں میں بلخ سے نکل کر باہر مہمات میں مصروف ہوں گے تو وہ بلخ پر حملہ کر دیں گے۔سو انھوں نے کر دیا۔یہاں باغیوں نے بڑی تعداد میں یونانی فوجیوں کو اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا۔جب سکندراعظم اپنی بہت بڑی فوج کے ساتھ اپنے مرکز میں نہیں تھایونانیوں نے اپنی سردیوں کی خوراک کے لیے جو مال مویشی جمع کیے ہوئے تھے،افغان حملہ آوور انھیں بھی ہانک کر ساتھ لے گئے۔

اس لڑائی میں اسکندرِ اعظم کا پسندیدہ گلوکار اریسٹونیکس بھی مارا گیا۔مائی کیوریس فیلوز باغیوں کے مسلسل حملوں نے یونانیوں کا مورال اس قدر ڈاؤن کر دیا تھا کہ عام سپاہی فرسٹریٹ ہونے لگے تھے۔یونانی فوجی افسروں میں اکثر تو تو میں میں اور مار پیٹ ہونے لگی تھی۔حتیٰ کہ خود سکندر اعظم بھی اتنے پریشان تھے کہ ایک بار سمرقند میں قیام کے دوران انہوں نے غصے میں آ کراپنے ہی ایک یونانی جنرل کلائیٹس کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا۔

افغانوں سے جنگ کے دوسرے یا تیسرے سال میں اسکندرِ اعظم نے ایک بات اچھی طرح سیکھ لی تھی کہ افغانوں کو تلوار سےشکست نہیں دی جا سکتی۔ہاں سفارتکاری سے، ڈپلومیسی سے انھیں جیتا ضرور جا سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے یہ کیا کہ وار لارڈز کو اپنا دوست بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔اس کا موقع انھیں جلد ہی مل گیا۔ہوا یہ کہ ایک جھڑپ میں پہاڑی قلعے پر حملے کے دوران ایک افغان سردار اور اس کے کچھ لوگ گرفتار ہو کر آئے۔

ان گرفتار لوگوں میں شامل خواتین کو جب یونانیوں کے سامنے رقص کے لیے پیش کیا گیا تو ان میں سردار کی بیٹی رخسانہ یا جسے وہ روکسین کہتے تھےوہ بھی شامل تھیں وہ پیش ہوئی۔اسکندر اعظم نے رخسانہ کو دیکھا تو پہلی نظر میں ہی انہیں رخسانہ پسند آ گئی۔اسکندرِ اعظم نےاس سے شادی کر لی اور ان کے والد کو اپنے اتحادیوں میں شامل کر لیا۔اس شادی نے سکندراعظم کی افغانوں سے رشتہ داری کو قائم کر دیا اور یونانیوں کی سیاسی پوزیشن بھی اب مضبوط ہونے لگی۔

یہ غالباً دوستو سکندراعظم کی پہلی شادی تھی۔مقامی سرداروں نے جب یہ دیکھا کہ سکندر اعظم اور ان کی فوج افغانوں سے رشتہ جوڑنے لگی ہےتو ان میں سے بہت سے اب یونانی فوج سے دوستی کرنے کے لیے آگے بڑھنے لگے۔اسکندر اعظم نے خود کو مضبوط کرنے کے لیے افغانوں اور سینٹرل ایشیا کے لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنی فوج میں بھی بھرتی کرنا اب شروع کر دیا تھا۔اس سے بھی افغانوں کی مزاحمت میں کافی کمی آئی۔اس سارے بندوبست کا نتیجہ دوستو یہ نکلا کہ افغانستان اور سینٹرل ایشیا میں اسکندرِ اعظم کا پلہ بھاری ہوتا گیا۔

About admin

Check Also

Victory of the Afghans in the Battle of Maiwand p6

Victory of the Afghans in the Battle of Maiwand p6

Victory of the Afghans in the Battle of Maiwand p6 The ruler of his will …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

MENU

Stv History