Thomos Edison Urdu Part 7

Thomos Edison Urdu Part 7

ایڈیسن نے اس ساری صورت حال کا مقابلہ کیسے کیا؟ ہوا یہ کہ ایڈیسن نے الیکٹرک بلب تو بنا لیا تھا لیکن ساتھ ہی اس کے کمپی ٹیٹرز، اس کے مد مقابل دوسرے بزنس مین بھی اس سے بہتر ٹکنالوجی کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ وہ اس کوشش میں بہت بڑی انویسٹمنٹ کرنے کو بھی تیار تھے جس میں انھیں ایڈیسن سے بہتر بلب بنانے میں کامیابی حاصل ہو۔ بہت سے بزنس مین کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھے جو ایڈیسن کی طرح جینئس ہو جس کی مدد سے وہ ایڈیسن سے بہتر ٹکنالوجی بنانے اور بیچنے میں کامیاب ہو سکیں۔

وہ ایڈیسن کو مارکیٹ سے آؤٹ کر کے پاور سپلائی کے بزنس پر مناپلی قائم کرنا چاہتے تھے، مکمل قبضہ کرنا چاہتے تھے جیسا کہ اس وقت ایڈیسن کا نظر آ رہا تھا۔ پھر ہوا یہ کہ انھیں ایڈیسن ہی کی کمپنی سے ایک ایسا جینئس مل گیا جسے وہ ایڈیسن کے مقابلے پر کھڑا کر سکتے تھے۔ اس جینئس کا نام تھا نکولا ٹیسلا کروشیا میں جنم لینے والا سرب سائنسدان نکولا ٹیسلا نیویارک میں ایڈیسن ہی کا ملازم تھا۔ مگر ایڈیسن کی ایک کمزوری نے ٹیسلا کو اس کا دشمن بنا دیا۔

ایڈیسن پر الزام لگتا ہے کہ وہ بھلے بلا کا جینئس تھا لیکن بے خد خودغرض بھی تھا۔ مطلب نکل جانے پر آنکھیں پھیر لینا اس کے یے کوئی بات ہی نہیں تھی۔ ایک بار اس نے ٹیسلا سے کہا کہ اگر وہ اس کے سارے جنریٹرز ٹھیک کر دے تو وہ ٹیسلا کو پچاس ہزار ڈالر بونس دے گا ٹیسلا جو کہ اس کا ملازم تھا، اس نے بونس کے لالچ میں خوب کام کیا اور سارے جنریٹر جلدی جلدی ٹھیک کر دئیے۔ لیکن جب وہ بونس لینے پہنچا تو ایڈنس نے کہا ’بونس والی بات تو میں نے مذاق میں کی تھی۔‘

یہ مذاق تھا یا دھوکے بازی،لیکن ٹیسلا کو یہ بہت زور سے لگا۔ وہ دلبرداشتہ ہو کر نوکری چھوڑ گیا۔ ایڈیسن نے پچاس ہزار ڈالر بچانے کے لیے جو ملازم کھویا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ یہی ملازم اس کی ساری ایمپائر پر بھاری پڑنے والا ہے۔ ٹیسلا جلد ہی ایڈیسن کے مقابلے کی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں لے آیا۔ یہ ٹیکنالوجی تھی آلٹرنیٹنگ کرنٹ یا اے سی۔ ادھر ایڈیسن جس بجلی سے بلب جلا رہا تھا وہ ڈی سی یا ڈائریکٹ کرنٹ تھا۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ ایڈیسن کا ڈی سی کرنٹ کم وولٹ والا تھا اور طویل فاصلے تک بجلی نہیں پہنچا سکتا تھا۔ اس سے زیادہ فاصلے تک بجلی پہنچانے کیلئے ہر ایک میل کے فاصلے پر نیا بجلی گھرانسٹال کرنا پڑتا تھا، مطلب ہر ایک میل پر نیا خرچہ نئی انویسٹمنٹ جبکہ ٹیسلا کا اے سی کرنٹ ایک ہی بجلی گھر سے پورے شہر کو روشنی دے سکتا تھا اور ایک ہی بجلی گھر ہزاروں میل دور تک بھی بجلی پہنچا سکتا تھا۔ اب یہ ایک گیم چینجر ٹیکنالوجی تھی۔

ایک ایک گیم چینجر تھا ایڈیسن اور جے پی مورگن کے رائیولز، ان کے مقابلے کے بزنس مین اور انویسٹرز ایسی ہی کسی ٹکنالوجی کے انتظار میں تو تھے۔ انہوں نے ٹیسلا کے آئیڈیا کو سمجھا اور اس پر ڈالرز کی بارش کر دی۔ ایک بڑی بزنس کمپنی ویسٹںگ ہاؤس کارپوریشن نے ٹیسلا سے اے سی کرنٹ کے حقوق دس یا پندرہ لاکھ ڈالرز کے لگ بھگ خرید لئے۔ اے سی کرنٹ کی پیدا وار شروع ہو گئی۔

نیویارک کے بہت سے گھروں کو اے سی کرنٹ سے بجلی کی سپلائی بھی ملنے لگی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایڈیسن ایک بزنس آئیڈیا کا مقابلہ بزنس آئیڈیا سے کرتا۔ مگر وہ ضدی اور انا پرست ثابت ہوا۔ اسے یہ زعم تھا کہ اس کی ٹیکنالوجی سب سے بہتر ہے اور اسکا کوئی مدمقابل نہیں دور تک۔ اس خوش فہمی یا غلط فہمی میں وہ اے سی کرنٹ کا پھیلاؤ روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ۔

About admin

Check Also

Why Kurds Don't Have Their Own Country in Urdu p2

Why Kurds Don’t Have Their Own Country in Urdu p2

Why Kurds Don’t Have Their Own Country in Urdu p2 کرد ترکی میں کل آبادی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

MENU

Stv History